عناصر اربع

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ چار اجزائے ترکیب جن سے اجسام بنے ہیں یعنی پانی، آگ، ہوا اور مٹی۔ "جسم عناصر اربعہ سے مرکب ہے۔"      ( ١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ٢٤٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عنصر' کی جمع 'عناصر' کے آخر پر کسرۂ صفت لگا کر عربی ہی سے مشتق اسم عدد 'اربع' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٧٤ء کو "انیس، مراثی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ چار اجزائے ترکیب جن سے اجسام بنے ہیں یعنی پانی، آگ، ہوا اور مٹی۔ "جسم عناصر اربعہ سے مرکب ہے۔"      ( ١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ٢٤٤ )

جنس: مذکر